تبلیغات
وااسلاماه - تاریخ شیعیان علی ( عباس بک ایجینسی لکھنو )
درباره وبلاگ

(وَ لا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقی إِلَیکمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً)

و به کسی که سلام به شما می‌کند نگوئید مؤمن نیستی.

سوره نساء (4): آیه 94
شیطان سالهاست كه برای گمراهی انسان‌ها نقشه كشیده‌ است
چرا ما اینقدر او را دست كم می‌گیریم
چرا در مقابل راه‌های گمراهی شیطان راه‌های هدایت را تقویت نمی‌كنیم

بیاییم عقیده خود را بازنگری كنیم شاید حرف دشمن ما درست باشد
اگر حرف ما درست بود در عقیده‌ای حقه استوارتر می‌شویم

اگر كسی عقیده ما را نقد كرد با جواب علمی او را قانع كنیم نه اینكه بدون شنید كلام او از اول او را رد كنیم


همیشه با خودمان بگوییم اگر حرف او درست باشد در مقابل خدا جواب داریم

بیاییم مهر تعصب رو از عقایدمان برداریم و آنچه عقیده ما هست را دوباره بررسی كنیم


شاید....
مدیر وبلاگ : ایران .
نویسندگان
نظرسنجی
كدام دین یا فرقه اهل بهشت هست؟












جستجو

آمار وبلاگ
کل بازدید :
بازدید امروز :
بازدید دیروز :
بازدید این ماه :
بازدید ماه قبل :
تعداد نویسندگان :
تعداد کل پست ها :
آخرین بازدید :
آخرین بروز رسانی :
وااسلاماه
پیامبر اسلام فرمودند: بعد از من امتم 73 فرقه می‌شوند كه فقط یك فرقه اهل بهشت هست. كدام فرقه؟؟؟ حتما نظر بده در نظر سنجی

كتاب کا نام: تاریخ شیعیان علی
مصنف: سید علی حسین رضوی
ناشر: عباس بک ایجینسی لکھنو
زبان: اردو
 
 
یہ کتاب سید علی حسین رضوی نے لکھی ہے۔ اس میں ان کے لکھنے کا مقصد ہندوستان میں شیعوں کی تاریخ کو رقم کرنا تھا۔ کیونکہ اس موضوع پر منظم طور پر لکھی جانے کوئی نئی کتاب تقریبا موجود نہیں ہے۔ مصنف کو اس بات کا اعتراف ہے کہ اس کتاب کی حیثیت نقش اول کی سی ہے اور دوسرے لوگ اس سلسلہ میں کوشش جاری رکھیں۔
مصنف اپنی کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:
"چھوٹی بڑی حکومتوں اور شخصیات کی حد تک ہمارے لئے دشواری یہ آپڑی کہ بعض قدیم تاریخوں میں تو کچھ ملتا ہے کہ کس علاقے کا حکمراں شیعہ تھا لیکن وہ تاریخیں کہاں ہیں؟ بہت پڑھے لکھے لوگ نام تو بتا سکتے ہیں، تاریخیں نہیں دکھا سکتے پھر وہ عربی میں ہیں اور پچھلی کئی صدیوں سے تو جو کام کیا گیا ہے اس میں ہمارا کوئی ذکر نہیں ہے اور شخصیات میں سے تو ہم کسی کو شیعہ کہہ ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ سب کے سب تقیہ میں زندگیاں گزارتے چلے گئے۔
اور فی زمانی تو یہ ستم ڈھایا جارہا ہے کہ جن کتابوں سے ہمارا تعلق نہیں ہے ان میں بھی اہل بیت کے حق میں اگر کوئی روایت ہے تو وہ نئے ایڈیشنوں میں نکالی جارہی ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ الحاقی ہے، شیعوں نے شامل کرادی، وہ کہیں تھے بھی یا نہیں ؟ اس بارے میں کوئی کچھ نہیں سوچتا مگر یہ کام ہمارے علمائے کرام کا ہے وہ کوئی راستہ نکالیں گے کہ اس حربہ کا دفاع کیونکر کیا جائے؟
دوسرا عام انداز یہ ہے کہ شیعہ مشاہیر کو سنی بتایا جارہا ہے، بیرم خان سنی تھا، ٹیپو سلطان سنی تھا، غالب سنی تھا، یہ بات ہے تاریخ کی اور اسی کے لئے یہ کتاب لکھی گئی ہے۔"
مقدمہ کے طور پر یا متعلقہ موضوع کو صحیح طور سے بیان کرنے کے لئے مصنف نے مختصر طور پر ہندوستان کے علاوہ دیگر علاقے کے شیعوں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔
کتاب کے اہم عناوین کو اس طرح ذکر کیا جاسکتا ہے:
شیعیت کی اساس
اسلام میں گروہ بندی
شیعوں کا دائرہ اقتدار
سلطان معز الدولہ ایک عظیم حکمراں
باقیات الصالحات
شیعہ مراقش و مصر میں
مغل سلطنت
طوائف الملوکی
سلطنت صفویہ
افشاریان
خاندان زند
خاندان قاجار
پہلوی سلطنت
شیعیان کشمیر
سندھ
ہندوستان [منجملہ دہلی]
دکنی ہندوستان
حکومت بریدیہ
بنگال
منارہائے ہدایت
فقہائے امامیہ
مشاہدات سادات
صراط مستقیم




نوع مطلب :
برچسب ها :
لینک های مرتبط :
 
لبخندناراحتچشمک
نیشخندبغلسوال
قلبخجالتزبان
ماچتعجبعصبانی
عینکشیطانگریه
خندهقهقههخداحافظ
سبزقهرهورا
دستگلتفکر